بیجنگ11جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)چینی معیشت میں ترقی کی متاثر کن شرح کا ایک راز کھربوں یوآن مالیت کے وہ ریکارڈ حد تک زیادہ قرضے بھی ہیں، جو چینی بینک ہر ماہ عام شہریوں کو دیتے ہیں۔ جون کے مہینے میں ان قرضوں کی مالیت ڈیڑھ کھرب یوآن سے زیادہ رہی۔چینی دارالحکومت بیجنگ سے بدھ بارہ جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس سال صرف جون کے مہینے میں چینی بینکوں نے ملکی صارفین کو مجموعی طور پر 1.55 کھرب یوآن کے قرضے جاری کیے، جو اپنی مالیت میں 227 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتے تھے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف تجارتی بینکوں کی طرف سے عام چینی شہریوں کو دیے جانے والے ان قرضوں کی مالیت جون کے مہینے میں ماہرین کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی۔ اس سال مئی میں چینی بینکوں نے ملکی صارفین کو مجموعی طور پر 1.11 کھرب یوآن کے قرضے جاری کیے تھے۔ماہرین کا خیال تھا کہ جون میں ان قرضوں کی مالیت بڑھ کر 1.2 کھرب یوآن ہو جائے گی۔ لیکن گزشتہ ماہ کے اب سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ان ماہانہ قرضوں کی مالیت بہت زیادہ ہو کر 1.55 کھرب یوآن ہو گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
اس طرح چین کی داخلی منڈی کو سرمائے کی فراہمی میں بھی ماہانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔زیادہ قرضے لینے کے نتیجے میں جون میں چینی صارفین کے ذمے مختلف بینکوں کی واجب الادا رقوم کی مالیت بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں12.9فیصد زیادہ ہو گئی حالانکہ ماہرین کے اندازے اس سے کم تھے۔کئی اقتصادی ماہرین کے مطابق چین میں سالانہ معیشی ترقی کی کافی زیادہ شرح کو یقینی بنانے کے لیے حکومت جن بہت متنوع اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، ان میں عام شہریوں کو دیے جانے والے یہ قرضے بھی شامل ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جب صارفین کے پاس سرمایہ زیادہ ہو گا، تو وہ زیادہ رقوم خرچ بھی کریں گے۔ یوں طلب بڑھے گی تو ساتھ ہی رسد بھی بڑھے گی۔ زیادہ رسد کے لیے پیداوار بھی زیادہ کی جائے گی اور یوں اقتصادی گرم بازاری دیکھنے میں آئے گی، جس کا براہ راست نتیجہ معیشی نمو میں اضافہ ہوتا ہے۔روئٹرزنے لکھاہے کہ بیجنگ حکومت نے اپنے اقتصادی ترقی کے سالانہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ملکی منڈی کو تحریک دینے کاجوفیصلہ کیا، اس کے تحت صارفین کے لیے ایسے نئے قرضوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جو گرم بازاری کی وجہ بنتے ہیں۔